دنیا کی بھاگ دوڑ میں، ہزار مصروفیتوں کے درمیان، ایک عبادت ایسی ہے جو ہر جگہ، ہر وقت کی جا سکتی ہے — ذکرِ الٰہی۔ نہ ڨاص جگہ چاہیے، نہ خاص وقت، نہ طہارت شرط۔ زبان سے سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر کہو — اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں برسنے لگتی ہیں۔
ذکر کا مطلب ہے ذہن میں یاد رکھنا، زبان پر جاری رکھنا۔ علماء فرماتے ہیں کہ ذکر کی کئی قسمیں ہیں — زبان کا ذکر، دل کا ذکر، اور اعضاء کا ذکر۔ سب سے افضل ذکر وہ ہے جس میں زبان اور دل دونوں شامل ہوں۔
عام ذکر کی اقسام:
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
يَٰأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا
اے ایمان والو! اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ (سورۃ الاحزاب: 41)
اور سب سے دلنشین آیت:
أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
جان لو! اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔ (سورۃ الرعد: 28)
یہ آیت دل کی کیفیت کی طبی تشخیص ہے۔ بےچینی، فکر، خوف، تنہائی — سب کا علاج ذکرِ الٰہی ہے۔ نہ پیسہین سے، نہ شہرت سے، نہ دیگر لوگوں کی تعریفوں سے — بلکہ صرف ذکرِ الٰہی سے۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث قدسی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
«مَنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَمَنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُ»
جو مجھے اپنے دل میں یاد کرے میں اسے اپنے آپ میں یاد کرتا ہوں۔ جو مجھے کسی مجلس میں یاد کرے میں اسے اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری و مسلم)
یعنی جب آپ ذکر کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو فرشتوں کی مجلس میں یاد کرتا ہے۔ یہ کتنا بڑا اعزاز ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«کلمتانِ حبیبتانِ الی الرحمن، خفیفتانِ علی اللسان، ثقیلتانِ فی المیزان: سبحان اللہ و بحمدہ، سبحان اللہ العظیم»
دو کلمے زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری، اور اللہ کو بہت پیارے: سبحان اللہ و بحمدہ، سبحان اللہ العظیم۔ (صحیح بخاری و مسلم)
یعنی صرف دو جملے کہیں — میزانِ عمل بھاری ہو جائے گا۔ ذکر سب سے زیادہ اجر والی عبادت ہے جس میں محنت سب سے کم ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ شیطان ایک بھیڑیے کی طرح ہے جو اکیلے جانور پر حملہ کرتا ہے۔ ذکر آپ کو اللہ کی رڹائی میں رکھتا ہے — شیطان وسوسی کر نہیں پاتا۔ بسم اللہ گھر میں داخل ہوتے وقت، اعوذ باللہ غصے میں، لا حول پریشانی میں — یہ سب ذکر ہیں۔
ہم محرم الحرام 1448 کے آخری دنوں میں ہیں — اللہ کے مہینے کے آخری لمحات۔ حرمت والے مہینے میں ہر نیکی کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ ذکر کا یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ چلتے پھرتے، کام کرتے ہوئے، سونے سے پہلے — ہر وقت ذکر جاری رکھیں۔
رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ سب سے افضل ذکر کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
«أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»
سب سے افضل ذکر لا الٰہ الا اللہ ہے۔ (ترمذی)
آج ہی سے شروع کریں — 100 بار لا الٰہ الا اللہ پڑھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص 100 بار سچے دل سے یہ کلمہ پڑھے اسے 10 غلاموں کی آزادی کا ثواب، 100 نیکیاں لکھی جائیں گی، 100 گناہ ممحو ہوںگے، اور شیطان سے سارا دن محفوظ رہے گا۔
ذکرِ الٰہی کوئی مشکل عبادت نہیں۔ نہ ایک جگہ، نہ ایک وقت، نہ کوئی خاص تیاری — بس زبان اور دل اللہ کی طرف مٹیں۔ دل کا سکون، گناہوں کی معافی، اللہ کی خصوصی یادگی، میزانِ عمل میں وزن — یہ سب ذکر سے ملتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کی زبانیں اپنے ذکر سے تر رکھے۔ آمین
اپنے شہر کی نماز کے اوقات جاننے کے لیے نماز ٹائمز وزٹ کریں اور اسلامی محافل کی معلومات کے لیے Events سیکشن دیکھیں۔