زندگی میں ہر انسان کو کسی نہ کسی موڑ پر آزمائش کا سامنا ہوتا ہے۔ اس وقت انسان کو یا تو شکوہ کا راستہ ملتا ہے یا صبر کا۔ آج ہم جانتے ہیں کہ صبر کیا ہے، اس کی فضیلت کیا ہے، اور اسے عملی زندگی میں کیسے اپنائیں۔
علماء صبر کی تین قسمیں بیان کرتے ہیں: صبر علی الطاعات — نیکیوں پر ہمیشہ قائم رہنا۔ صبر عن المعاصی — گناہوں سے بچنا۔ صبر علی المصائب — مشکلات میں شکوہ نہ کرنا۔
إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّٰبِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابْ
بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ (سورۃ الزمر: 10)
الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ
جن لوگوں نے مصیبت میں کہا: انا للہ و انا الیہ راجعون — ان پر رحمتیں ہیں اور یہی ہدایت یافتہ ہیں۔ (سورۃ البقرۃ: 156-157)
«مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ»
مسلمان کو جو بھی دکھ، تکلیف، غم اور پریشانی پہنچتی ہے — حتیٰ کہ کانٹہ چبھی جائے — اللہ اس سے گناہ معاف فرماتا ہے۔ (صحیح بخاری)
رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا
اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمارے قدم جما دے۔ (سورۃ البقرۃ: 250)
صبر کوئی کمزوری نہیں — یہ اسلام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہماری تمام مشکلات کو آسانی فرمائے۔ آمین
نماز کے اوقات جاننے کے لیے نماز ٹائمز وزٹ کریں۔