ماہ محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا اور سب سے بابرکت مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنا مہینہ قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم الحرام کے روزے ہیں۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ عاشورہ کا روزہ کب رکھیں، کیسے رکھیں، اور اس کی فضیلت کیا ہے — احادیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللّٰهِ الْمُحَرَّمُ»
رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔ (صحیح مسلم)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ محرم الحرام میں روزہ رکھنا انتہائی فضیلت کا کام ہے — خاص طور پر یوم عاشورہ یعنی دسویں محرم کا روزہ۔
عاشورہ عربی لفظ ہے جو «عشر» (دس) سے بنا ہے۔ اس کا مطلب ہے دسواں دن — یعنی محرم الحرام کی دسویں تاریخ۔
جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہودیوں کو یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا۔ دریافت فرمانے پر انہوں نے بتایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات عطا فرمائی تھی، اور فرعون کو سمندر میں غرق کیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «نَحْنُ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ» — ہم تم سے زیادہ موسیٰ کے حق دار ہیں — اور آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی حکم فرمایا۔ (صحیح بخاری و مسلم)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
«أَحْتَسِبُ عَلَى اللّٰهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ»
مجھے اللہ سے امید ہے کہ عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ (صحیح مسلم)
یعنی صرف ایک روزے سے پورے ایک سال کے گناہ معاف! یہ اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی رحمت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو میں 9 محرم کا روزہ بھی رکھوں گا — تاکہ یہودیوں کی مشابہت نہ ہو۔ (صحیح مسلم)
اس لیے سنت طریقہ یہ ہے:
یاد رہے کہ صرف 10 محرم کا روزہ رکھنا بھی صحیح ہے، لیکن 9 اور 10 محرم ملا کر رکھنا زیادہ افضل اور سنت کے مطابق ہے۔
محرم الحرام 1448 ہجری میں پاکستان میں عاشورہ (10 محرم) 26 جون 2026 بروز جمعہ کو گزر چکا ہے۔ اگر آپ نے یہ روزے نہیں رکھے تو گھبرائیے نہیں — پورے محرم الحرام میں روزے رکھنا فضیلت کا کام ہے، اور 9 محرم (25 جون) کا روزہ بھی بابرکت ہے۔ آئندہ سال کے لیے یاد رکھیں اور آج سے نیت باندھ لیں۔
نیت دل کا پختہ ارادہ ہے — زبان سے نیت کرنا ضروری نہیں، لیکن پڑھ سکتے ہیں:
نَوَيْتُ أَنْ أَصُوْمَ غَدًا لِلّٰهِ تَعَالٰى
میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے کل کا روزہ رکھنے کی نیت کی۔
سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے کچھ نہ کھائیں پئیں اور روزے کی نیت کر لیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں محرم الحرام کے حوالے سے بہت سی بدعات اور غلط رسمیں رائج ہو گئی ہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں درج ذیل کام غلط ہیں:
محرم الحرام عبادت، روزے، ذکر اور توبہ کا مہینہ ہے — غم منانے کا نہیں۔
روزے کے ساتھ ساتھ پنج وقتہ نماز کی پابندی سب سے ضروری ہے۔ اگر آپ اپنے شہر کے نماز کے اوقات جاننا چاہتے ہیں تو ہمارا نماز ٹائمز صفحہ وزٹ کریں — جہاں پاکستان کے تمام بڑے شہروں کے اوقات نماز دستیاب ہیں۔
محرم الحرام اللہ کا مہینہ ہے۔ عاشورہ کا روزہ رکھنا سنت نبوی ﷺ ہے اور اس سے گزشتہ ایک سال کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ 9 اور 10 محرم ملا کر روزہ رکھنا سب سے افضل ہے۔ اس مبارک مہینے کو عبادت، توبہ اور ذکر میں گزاریں اور غیر شرعی رسوم سے بچیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس مبارک مہینے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
پاکستان میں اسلامی مجالس و محافل کی معلومات کے لیے Mahfil.site وزٹ کریں۔